نئی دہلی29جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) بہار کے مظفرپور میں بچیوں کے شیلٹر ہوم کمسن بچیوں کی آبروریزی کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل سرفراز احمد صدیقی نے الزام لگایا کہ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں خواتین کا جنسی استحصال سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کس قدر افسوسناک اور حیوانیت ، درندگی اور وحشناک واقعہ ہے کہ اب تک42 بچیوں میں سے 34بچیوں کے ساتھ آبروریزی کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شیلٹر ہوم میں کل 44 بچیاں قیام پذیر تھیں اور دو لڑکیاں بیمار ہیں اس لئے ان کی جانچ نہیں کی گئی ہے اور ان بچیوں کی عمر سات سے لیکر 14سال تک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے جو بیان دئے ہیں وہ رونگھٹے کردینے والے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہے کہ برسوں سے چلنے والی حیوانیت سے حکام واقف نہیں تھے بلکہ تحفظ اطفال کا ایک افسر بچیوں کی آبرویز ی میں ملوث تھا اور جن بچیوں نے خاص طور پر جن دو لوگوں کا نام لیا ہے ان میں شیلٹر ہوم چلانے والا برجیش ٹھاکر اور ایک وزیر کے شوہرکا نام بتایا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ تحفظ اطفال کمیشن کی صدر ہرپال کور نے 21ستمبر 2017کو مظفرپور کے اس لڑکی گھر کا معائنہ کیا تھااور اس پورے معاملے کی رپورٹ مظفر پور کے ڈی کو دی تھی لیکن ڈی ایم نے اس رپورٹ پرخاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
مسٹر صدیقی جو آل انڈیا مسلم ایڈووکیٹس فورم فور جسٹس کے سکریٹری جنرل بھی ہیں، نے کہاکہ اگر ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس نے اس کی تحقیق نہ کی ہوتی یہ معاملہ اب تک چل رہا ہوتا۔ انہوں نے حکومت پر لاپروائی اور اس درندگی کے واقعہ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اپریل میں ہی ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس نے رپورٹ وزارت فلاح بہبود کو پیش کردی تھی لیکن اس پر کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی اورتحقیقات میں کئی لڑکیاں غائب پائی گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بہار حکومت کی نیند اس وقت کھلی جب ایک مقامی نیوز چینل نے اس واقعہ کو شدت کے ساتھ اٹھایا ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے تو معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن مسلسل کوریج کے بعد پولیس کی کارروائی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جہاں بی جے پی کی حکمرانی ہے وہاں عورتوں اور بچیوں کا استحصال سب سے زیادہ ہورہا ہے۔ مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے اعداد و شمار اس طرح کے واقعات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سی بی آئی کی تفتیشی اسی وقت شفاف ہوسکتی ہے جب اس کی نگرانی سپریم کورٹ کرے۔